عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari

Vendor onlyprint.pl
Regular price $ 400.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari( ) 2022

Friedrich Engels

(افسانے اور حقیقت)

" کلیات سارہ شگفتہ " ترتیب و تدوین | ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی

سگمنڈ فرائڈ

لکھتے وقت میرے ذہن میں تین قسم کے پڑھنے والے رہے ہیں۔ ایک وہ عام لوگ جنہیں کمیونزم کے خلاف یہ کہ کر بھڑکا یا جاتا ہے کہ کمیونسٹ اگر بر سر اقتدار آ گئے تو تمہارے مندر، مسجد ڈھا دیں گے اور تمہارے پیارے مذہب کو ملیا میٹ کردیں گے وہ اس مکروہ پرو پیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں اور چونکہ کمیونسٹوں سے ایک تعصب اُن کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اس لئے وہ دُور دُور رہتے ہیں ، انہیں یہ موقع نہیں ملتا کہ سیدھی سچی بات ان تک پہنچ سکے۔

اس سے قبل بھی اس گاؤں کی کہانیاں ہوں گی کچی آنکھوں دیکھی تاریخ ہوگی۔ مگر سنانے والا کوئی نہیں۔ حال ہی میں بازار کے نزدیک ایک کھیت کی کھدائی کے دوران کچھ پتھر کی مورتیاں ملی ہیں۔ انھیں کس نے تراشا اور کیوں تراشا ۔۔۔؟ تب ب اس نگر میں کون لوگ بساو کیے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کہاں چلے گئے ۔ اب کیسے ہیں؟ کہاں ہیں؟ کس دیس میں ہیں؟ واپس مڑے نہیں۔ ان فقراء کی طرح ۔۔۔ اس جہاں کے یہ سب لوگ آخر کس دیس میں چلے جاتے ہیں کہ واپس مڑنے کا نام تک نہیں لیتے ۔ ہندو مسلم ، سکھ، عیسائی، دہریے، خدا پرست ہمنکر ۔۔۔ ایک مسلک پر تو سب ہی متفق ہیں کہ یہ نگر، یہ جہاں ایک پڑا ہے اور جو بھی اس نگر سے اُس دوسرے نگر میں گیا آج تک واپس نہیں آیا لوگ بس جاتے ہی ہیں پھر واپس نہیں آتے ۔ یہ جانے والوں کا نگر ہے۔ مگر پھر بھی مسافر یہاں کی رونق میں محو منزل بھول کر، مسافر خانے کی آرائش میں بجت جاتے ہیں۔ ہر مسافر اپنی عارضی سراے میں محو ہے۔ منزل بھول کر اسے ہی دائی منزل جان بیٹھا ہے۔ مجھ سمیت ہر سفری یہاں عارضی بساوے کو مستقل سمجھ بیٹھا ہے۔ سوالے کچھ لوگوں کے ۔ یہ سب لوگ ہر دور میں خال خال ضرور نظر آتے ہیں۔ پراگندہ، بکھرے ہوئے ، ٹوٹے ہوئے، اُلجھے ہوئے مسکراتے ہوئے من کا دامن جھاڑیں تو حرص سے خالی ۔ ان کے من کے نگر میں کوئی اور آباد ہوتا ہے۔ جسے ہر نگاہ دیکھنے سے قاصر ہے۔ یہ کس نگر کے لوگ ہیں ۔۔۔؟ شاید یہی فقیر نگر کے لوگ ہیں۔

جناب اسلم انصاری اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ ان کے سعادت مند بیٹوں کے ساتھ ان کے شاگردوں اور قارئین کی بڑی تعداد ان پر فخر کرتی ہے۔ اس ہجوم عاشقاں میں ڈاکٹر الیاس کبیر

Novel by Fyodor Dostoevsky

جہاد اکبر

" ایور پیک کی کتاب SUDDEN ENDINGS نظر سے گزری تو میں پڑھے بغیر نہ رہ سکی۔ جس محنت سے انہوں نے دنیا بھر کی ان معروف شخصیات کے حالات جمع کیے کہ جنہوں نے زندگی کے مصائب سے تنگ آکر خود کشی کر لی وہ بے مثال ہے۔ لیکن ان لوگوں کے حالات پر یہ محض بے مقصد طبع آزمائی نہیں بلکہ زبردست تحقیقی کام ہے۔ ان کی زندگیوں کے ایسے بہت سے پہلو جو ہماری نظروں سے مخفی تھے وہ فلم کی کہانی کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے چلنے لگتے ہیں۔ کتاب میں شامل ان لوگوں کی کہانیاں جن میں شاعر، ادیب، آرٹسٹ سب شامل ہیں دراصل معاشرے کے اس حساس طبقے کے اندر چھپے ہوئے خوف و ہراس ، مایوسی، ناکام حسرتوں ، بے مراد خواہشوں اور نازک ترین احساسات کی نشاندہی ہے جو آہستہ آہستہ انہیں موت کی طرف دھکیلتے رہے۔ سیاہ بختی اور زندگی کی ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کا لاوا بڑی خاموشی سے اندر ہی اندر ابلتا رہا۔ ناپختہ عمر کے دکھوں محرومیوں نے ساری عمر پیچھا نہ چھوڑا تو زندگی سے انتقام اس کو ختم کر کے لیا ۔ ہارٹ کرین اور ڈیانا بیری مور کے شخصی خاکوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس بحرانی شدت کے ساتھ دونوں نے کم عمری میں اپنے والدین کے شدید اختلافات کے باعث کیا اس نے ساری عمر کے لیے انہیں روگ دے دیا اور ان کی شخصیتوں میں ایسا خلا رہ گیا جو کبھی بھرا نہ جا سکا۔ والدین کی شخصیتوں کے تضاداور نفسیاتی الجھنوں نے ان حساس ذہنوں کو بچپن سے ہی بیمار کر دیا۔ ورجینیا وولف نے کم عمری میں ہی اپنے پیاروں کو موت میں جاتے دیکھا۔ اس نے جتنا لکھا تقریبا موت سب میں ہی اس کا بنیادی موضوع رہی۔ زندگی اور موت کی پراسراریت نے ہر لمحہ اسے پریشان رکھا جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہوئی۔ اور بے اختیار زندگی کی بے وفائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے اپنی ڈائری میں لکھا " زندگی اتنی درد ناک کیوں ہے؟ بالکل اس گہرے گڑھے کی طرح جس کے ساتھ ننگے راستے ہوں ۔ میں نے نیچے اور خود کو احمق محسوس کرنے لگی۔ میں حیران ہوں کہ اس راستے تک کیسے چلوں گی؟ گویا زندگی کو اپنے ہاتھوں ٹھکرا دینے کا فیصلہ اس معروف برطانوی مصنفہ نے بہت عرصہ قبل کر لیا تھا۔ "

The book provides numerous examples of how communication research can be used to address real-world problems and improve communication practices

’ارے ملاؤں میں بھی مسلمان ہوتے ہیں

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari ships.

Need Help?
Questions about عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for عکس مفتی | فہم و دانش کی بازگشت | Aks Muffti | Dr Suhail Taj Zaun Ansari in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>