حساس ادارے | Hasas Adaray 10%

Vendor onlyprint.pl
Regular price $ 375.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

حساس ادارے | Hasas Adaray 10%Profiles Of Intelligence () ( ) 332

۱۹۷۴ء میں ایک عامل صحافی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور دس برس کے عرصے میں وفاقی دارالحکومت میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت کے علاوہ خبر رساں ادارے پی پی آئی سے منسلک رہے۔ 1983ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے شعبہ تحقیق و تعلقات عامہ میں بطور ریسرچ افسر ملازمت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد 2015 ء میں ایڈیشنل سیکرٹری کی حیثیت سے قومی اسمبلی سے ریٹائر ہوئے۔

پنجاب جس کی دھرتی پر پانچ دریائوں کا پانی بہہ رہا ہے قدیم و جدید تہذیبی رنگ و طرز کا ملغوبہ ہے۔ کئی قدیم شہر اور قصبات نیست و نابود ہو کر قصہ پارینہ بن گئے۔ کئی پرانے ملبے پر نئے شہر اور قصبات آباد ہو گئے اور کئی ایک نئے سرے سے وجود میں آکر بہت قلیل عرصے میں شہرت دوام حاصل کر گئے۔ آج کا پنجاب انہی قدیم اور جدید شہروں کی قوسِ قزح اپنے آسمان پر سجائے ہوئے ہے۔ محقق، مصنف اور سفر نامہ نگار اسد سلیم شیخ کی زیرنظر کتاب نگر نگر پنجاب کے انہی شہروں اور قصبات کی ہی تاریخ و تہذیب بتا رہی ہے۔ مصنف جو اِس سے پہلے چودہ کتب تخلیق کر چکے ہیں اور انہیں تحقیق کے شعبے میں صدارتی ایوارڈ اعزازِ فضیلت بھی مل چکا ہے‘ نے اس اہم تاریخی دستاویز میں پنجاب میں انسانی ارتقاء اور آبادکاری کی کہانی کے علاوہ شہری آبادی کے ابتدائی خدوخال بیان کرنے کے علاوہ ایک فہرست کے ذریعے پنجاب کے قدیم، سلاطین، مغل، سکھ، انگریز اور پاکستان ادوار میں آباد ہونے والے شہروں اور قصبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ علاوہ ازیں دریا کنارے آباد شہر اور قصبات ان شہروں کی وجہ تسمیہ اور ان کے ساتھ استعمال ہونے والا لاحقہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب میں پنجاب کے شہروں اور قصبات کے تاریخی و تہذیبی پہلوئوں کے مجموعی جائزے کے بعد اٹک سے لے کر راجن پور، ڈیرہ غازیخان تک پنجاب کے 525 شہروں اور قصبات کی الگ الگ جغرافیائی، سیاسی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کے تذکرے شامل کئے گئے ہیں۔ ہر شہر کی وجہ تسمیہ، تاریخ، ادارے، تجارتی و رہائشی مراکز و محلے، تفریحی مقامات، کھانے پینے کی مخصوص اشیاء و شناخت، دستکاری، صنعت و حرفت اور اہم علمی و ادبی شخصیات، ان تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک انسائیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتی ہے اور تمام حوالہ جات کو درج کیا گیا ہے۔

اپݨی اپݨی آکھ بݨوا کے

تلسی داس جی کہتے ہیں کہ برسات میں مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ کوئل کی میٹھی اور سریلی کوک ،ان کے شور میں دب جاتی ہے۔ اس لئے کوئل مون دھارن یا خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جب چالاک ، عیّار ، دھوکے باز ، بے ایمان ؛ فریبی ، دغا باز اور بدقماش لوگوں کا بول بالا ہو جائے، تب سمجھدار انسان کی بات پر کوئی دھیان نہی دیتا ہے۔

Book Details ISBN 978-969-652-186-0 No

Book Details ISBN 978-969-652-123-5 No

Iqbal Ka Maqalmat Or Aqwal e Zarein | Tehseen Adeeb

ISBN 9786273002804

Jahon Morton

رزم گاہِ حیات

(پروفیسر سلیم اختر)

of Pages 248 Format Hardcover Publishing Date 2015 Language Urdu ریحانہ کوثر کی زیرِ نظر تصنیف ”اقبالؒ جرمنی میں “سے نہ صرف علامہ محمد اقبالؒ کی زندگی، شاعری اور فلسفہ پر روشنی ڈالنے، بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کرنے میں مدد ملے گی۔شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ ایک آفاقی شاعر تھے، ان کے حکیمانہ افکار اور ساحرانہ شاعری ابھی بھی اہل اَدب اور مفکرین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ علامہ اقبالؒ بلند مرتبت شاعر، فلسفی، نامور مفکر اور بین الاقوامی شہرت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس اور محبت بھرا دل رکھنے والے انسان بھی تھے۔شاعر مشرق علامہ اقبالؒ پر جو کچھ بھی لکھا گیا، وہ زیادہ تر ان کے حکیمانہ افکار، ان کے ساحرانہ فن اور ان کی سیاسی بصیرت سے متعلق ہے۔ اس سلسلے کی بعض تصانیف بڑے پائے کی ہیں، لیکن اُن کے قیامِ جرمنی کے شب و روز پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ البتہ ریحانہ کوثر نے اس سلسلے میں بڑی زیرکی سے یہ تحقیقی مقالہ مرتب کیا ہے ۔ اس مقالے کو مصنفہ نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں علامہ اقبال کے یورپ جانے کے محرکات بیان کیے ہیں۔ دوسرے میں اُن کے ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ ہائیڈل برگ میں ان کی مصروفیات، مشاغل اور تفریحات کو بیان کیا ہے۔ تیسرے باب میں میونخ یونیورسٹی سے حصول ڈگری پی ایچ ڈی کے تمام مراحل لکھے ہیں۔ چوتھے باب میں اقبال کی Prism شخصیت کی ایک شعاع سے بیان کیا گیا ہے، جس کا نام ایما ویگے ناسٹ ہے۔ ان کے حالاتِ زندگی اور اقبال کے ساتھ تعلقات کی وضاحت کی ہے اور پانچویں باب میں یہ بتایا ہے کہ اقبال جرمنی کے شاعروں، مفکروں، شخصیات اور آدرشوں سے کس حد تک متاثر ہوئے۔

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your حساس ادارے | Hasas Adaray 10% orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your حساس ادارے | Hasas Adaray 10% ships.

Need Help?
Questions about حساس ادارے | Hasas Adaray 10%, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for حساس ادارے | Hasas Adaray 10% in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>